چرہٹ،03؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش کے ضلع سدھی کے چرہٹ میں وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی جن آشیروادیاترا پر نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر پتھراؤ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
مدھیہ پردیش اسمبلی میں اپوزیشن لیڈراجے سنگھ کے اسمبلی حلقہ چرہٹ میں ہوئے اس واقعہ کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے جہاں ایک طرف اسے کانگریس کی بوکھلاہٹ قراردیا ہے، وہیں کانگریس نے پورے معاملہ سے پلہ جھاڑ لیا ہے۔کل دیر رات چرہٹ میں نامعلوم لوگوں نے مسٹر چوہان کے رتھ پر مبینہ طور پر پتھر پھینکے۔ اس کے بعد مسٹر چوہان نے منچ سے اپوزیشن لیڈر مسٹر سنگھ کا نام لیتے ہوئے کہاکہ چھپ کر پتھر پھینک والوں میں اگر طاقت ہے تو وہ سامنے آکر مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان بزدلانہ حرکتوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور ان کے ساتھ عوام ہے۔
مسٹرچوہان نے کہا کہ کانگریس ریاست کی سیاست کو کہاں لے جائے گی، مدھیہ پردیش میں تشدد کی سیاست کو کبھی جگہ نہیں ملی ہے۔
وہیں واقعہ کے سامنے آنے کے فورا بعد اپوزیشن لیڈر مسٹر سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ مخالفین پر کسی قسم کی جارحیت کانگریس کی ثقافت نہیں ہے۔ انہوں نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی بھی کانگریسی شامل نہیں ہے۔
مسٹر سنگھ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے اور چرہٹ کے عوام کو بدنام کرنے کے لیے یہ سازش رچی گئی ہے۔
وہیں بی جے پی ترجمان رجنیش اگروال نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس گالی گلوج کے بعد اب تشدد پر اتر آئی ہے۔ کانگریس وزیراعلیٰ کی مقبولیت سے گھبرا کر سیاسی بھائی چارہ کو بھی ختم کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جن آشیرواد یاتراان دنوں وندھیہ علاقہ کے سدھی سے گزر رہی ہے۔